ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / پاناما لیکس مقدمے میں التوا نہیں، اب سماعت روزانہ ہوگی

پاناما لیکس مقدمے میں التوا نہیں، اب سماعت روزانہ ہوگی

Thu, 05 Jan 2017 11:56:54    S.O. News Service

اسلام آباد،4؍جنوری(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا)پاکستان کی سپریم کورٹ نے وزیراعظم نواز شریف کے بچوں کے خلاف پاناما پیپرز میں ہونے والے انکشافات کی بنیاد پر دائر درخواستوں کی سماعت بدھ سے دوبارہ شروع کی ہے۔پاناما لیکس سے متعلق کیس کی سماعت کے لیے چیف جسٹس ثاقب نثار نے پانچ رکنی بینچ تشکیل ہے جس کی سربراہی سینئیر جج آصف سعید کھوسہ کر رہے ہیں۔ چیف جسٹس ثاقب نثار جو پہلے بھی پاناما پیپرز سے متعلق مقدمے کی سماعت کرنے والے بینچ کا حصہ نہیں تھے اس بار بھی انھوں نے خود کو بینچ سے علیحدہ رکھا ہے۔ مقدمے کی سماعت کرنے والے بینچ نے کہا ہے کہ اس کیس کی سماعت روانہ کی بنیاد پر ہوگی اور اب کسی کو التوا نہیں دیا جائے گا۔بنچ کے سربراہ آصف سعید کھوسہ نے سماعت میں تحریک انصاف کے وکیل نعیم بخاری سے استفسار کیا کہ اب تو بنچ بھی نیا بن گیا ہے اور امید ہے کہ اب آپ کو اس پر اعتراض نہیں ہو گا۔اس پر نعیم بخاری نے کہا ہے کہ انھیں پہلے بھی اعتراض نہیں تھا اور اب بھی نہیں ہے۔بدھ کو سماعت میں پی ٹی آئی کے وکیل نعیم بخاری نے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ 1993میں لندن کے فلیٹس خریدے گئے تھے۔جس میں بینچ میں شامل جسٹس اعجاز الحسن نے پوچھا کہ یہ فلیٹ کس نے خریدے تھے تو اس پر نعیم بخاری نے کہا کہ یہ فلیٹس نیسکول اینڈ نیلسن کمپنی نے خریدے تھے۔اس پر جسٹس اعجاز نے کہا ہے کہ اب یہ ثابت کرنا آپ کا کام ہے کہ یہ کمپنی 1993میں حسین نواز کی ملکیت تھی۔بینچ کے سربراہ آصف سعید کھوسہ نے کیس کی سماعت میں ریماکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاناما سے متعلق تمام دستاویزات کا جائزہ لیں گے اور کیس میں کسی صورت التوا نہیں ہونے دیں گے۔

خیال رہے کہ پاکستان کے حکمران خاندان کی آف شور کمپنیوں کے بارے میں انکشاف پاناما پیپرز میں کیا گیا تھا جو گذشتہ سال اپریل میں سامنے آئے تھے۔وزیراعظم پاکستان میاں نواز شریف، ان کے بیٹوں حسن نواز، حسین نواز اور بیٹی مریم صفدر کے خلاف گذشتہ سال ستمبر میں چار درخواستیں سپریم کورٹ میں دائر کی گئیں تھیں۔ درخواست گزاروں میں حزب اختلاف کی جماعت پاکستان تحریک انصاف اور جماعت اسلامی شامل ہیں۔ان انکشافات کے سامنے آنے کے بعد سے حزب اختلاف کی جماعتوں اور عوامی حلقوں کی طرف سے حکمران جماعت کو شدید تنقید کا سامنا ہے۔وزیر اعظم نواز شریف اپنے خلاف لگنے والے الزامات کی وضاحت کرنے کے لیے دو مرتبہ قوم سے خطاب اور ایک مرتبہ پاکستان کی قومی اسمبلی میں بیان دے چکے ہیں۔سپریم کورٹ آف پاکستان اس سے قبل ان درخواستوں کی سماعت کر چکی ہے لیکن چیف جسٹس جسٹس انور ظہیر جمالی کی ریٹائرمنٹ کے بعد سماعت کرنے والے تین رکنی بینچ کے ٹوٹ جانے کے بعد اب ان درخواستوں کی ازسر نو سماعت شروع کی گئی ہے۔


Share: